Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Mar 27, 2017 in Technology | 2 comments

Savior of Mankind Translation – 9th Class English Notes

The Savior of Mankind Translation

Here is an exact and easy-to-learn the Savior of Mankind translation. Sublime English Guide Series is a series of easiest to learn and to-the-point notes for grade 9, 10, 11, 12 and other classes. Having already earned great appreciation from teachers, students and examiners alike, the use of these notes can help you score maximum marks in the board exams. The 9th class English notes and 10th class English notes cover all aspects of the syllabus, including short questions, MCQs, grammar, pairs of words, paragraphs, essays, reading comprehension, translation, past papers, model papers, and everything else that the students need.

As a part of 9th class English notes series, here is an exact and easy-to-learn the Savior of Mankind translation.

    The Saviour of Mankind Translation into Urdu

  1. Arabia is a land of unparalleled charm and beauty, with its trackless deserts of sand dunes in the dazzling rays of a tropical sun.

سعودی عرب ایک بے مثال حسن اور خوبصورتی کی زمین ہے جس میں شدید گرم سورج کی آنکھیں چندھیا دینے والی شعاعوں میں ریت کے ٹیلوں پر مشتمل بے راستہ صحرا ہیں۔

Its starry sky has excited the imagination of poets and travelers.

اس کے ستاروں سے بھرے آسمان نے شاعروں اور مسافروں کے تخیل کو تحریک دی ہے۔

It was in this land that the Rasool was born, in the city of Makkah, which is about fifty miles from the Red Sea.

یہ وہی زمین ہے جہاں پہ رسول ﷺ مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جو بحیرہ احمر سے پچاس میل کے فاصلے پر ہے۔

  1. The Arabs possessed a remarkable memory and were an eloquent people.

عرب کے لوگ زبردست یاداشت اور فصاحت و بلاغت کے مالک تھے۔ (عربی غضب کی میموری رکھتے تھے اور فصاحت و بلاغت والے لوگ تھے۔)

Their eloquence and memory found expression in their poetry.

ان کی فصاحت و بلاغت اور یاداشت کا اظہار ان کی شاعری میں ملتا ہے۔

Every year a fair was held for poetical competitions at Ukaz.

ہر سال عکاذ کے مقام پرشاعری مقابلاجات کا ایک میلہ لگتا تھا۔

It is narrated that Hammad said to Caliph Walid bin Yazid: “I can recite to you, for each letter of the alphabet, one hundred long poems, without taking into account short pieces, and all of that composed exclusively by poets before the promulgation of Islam.”

کہا جاتا ہے کہ حماد نے خلیفہ ولید بن یذید سے کہا: “میں آپ کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا حساب رکھے بغیر حروفِ تہجی کے ہر حرف کے حساب سے ایک سو لمبی نظمیں سنا سکتا ہوں اور یہ تمام نظمیں خاص طور پر اسلام کی تبلیغ سے پہلے کے دور کے شعرا کی لکھی ہوئی ہیں۔

It is no small wonder that Allah Almighty chose the Arabic for His final dispensation and the preservation of His Word.

یہ کوئی کم حیرانی والی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے آخری کلام کی تبلیغ اور حفاظت کے لیے عربی زبان کا انتخاب کیا۔

  1. In the fifth and sixth centuries, mankind stood on the verge of chaos.

پانچویں اور چھٹی صدی میں انسانیت انتشار ( اور تباہی) کے دہانے پر کھڑی تھی۔

It seemed that the civilization which had taken four thousand years to grow had started crumbling.

ایسا لگتا تھا کہ ایک تہذیب جس کو پروان چڑھنے میں چار ہزار سال لگے تھے اب وہ بکھرنا شروع ہو چکی تھی۔

At this point in time, Allah Almighty raised a prophet from among themselves who was to lift the humanity from their ignorance into the light of faith.

عین اس وقت اللہ تعالٰی نے انہی لوگوں میں سے ایک پیغمبر کو مبعوث فرمایا جس نے انسانیت کو جہالت سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لانا تھا۔

  1. When Hazrat Muhammad (PBUH) was thirty-eight years of age, he spent most of his time in solitude and meditation.

جب حضرت محمد ﷺ اڑتیس برس کے ہوئے، آپﷺ اپنا زیادہ تر وقت تنہائی اور سوچ بچار میں گزارتے تھے۔

In the cave of Hira, he used to retire with food and water and spend days and weeks in remembrance of Allah Almighty.

آپﷺ کھانا اور پانی لے کرغارِحرا میں گوشہ نشین ہو جاتے تھے اور کئی کئی دن اور ہفتے اللہ تعالٰی کی یاد میں گزار دیتے تھے۔

  1. The period of waiting had come to a close. His heart was overflowing with profound compassion for humanity.

انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں۔ آپ کا دل انسانیت کے لیے شدید ہمدردی سے لبریز (بھراہوا) تھا۔

He had a pressing urge to eradicate wrong beliefs, social evils, cruelty and injustice.

آپﷺ کی شدید خواہش تھی کہ غلط عقائد، معاشرتی برائیوں، ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کر دیں۔

The moment had arrived when he was to be bestowed with nabuwat.

اب وہ وقت آن پہنچا تھا کہ جب آپﷺ کو نبوت عطا ہونا تھی۔

One day, when he was in the cave of Hira, Hazrat Jibril (Gabriel) (AS) came and conveyed to him the following message of Allah Almighty:

“Read in the name of thy Lord Who created; created man from a clot (of congealed blood): Read and thy Lord is most Bountiful, Who taught (the use of) the pen, taught man that which he knew not. (Quran, 96:1-5)

ایک دن جب آپﷺ غارِ حرا میں تھے، حضرت جبرائیلؑ آئے اور آپﷺ کو اللہ تعالٰی کا یہ بیغام دیا:

“پرھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پرھیے! اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

  1. The revelation of the Divine message which continued for the next twenty three years had begun, and the Rasool (PBUH) had arisen to proclaim Oneness of Allah (Tauheed) and the unity of mankind.

الہامی پیغام کے نزول کا سلسلہ جو اگلے تیئس سال تک جاری رہنا تھا، شروع ہو چکا تھا اور رسول ﷺ اللہ تعالٰی کی توحید اور انسانیت کے اتحاد کی تبلیغ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

His mission was to destroy the nexus of superstition, ignorance, and disbelief, set up a noble conception of life and lead mankind to the light of faith and divine bliss.

آپﷺ کا مقصد توہمات، جہالت اور کفر کے جال کو توڑنا، زندگی کا ایک نیک نظریہ قائم کرنا اور انسانیت کو ایمان کی روشنی اور اللہ کی رحمت کی طرف لانا تھا۔

  1. Since this belief was threatening their dominance in the society, the pagan Arabs started to mount pressure on the Rasool (PBUH) and his followers.

چونکہ نیا عقیدہ معاشرے میں ان کے غلبے کے لیے خطرہ تھا، کافر عربوں نے رسولﷺ اور ان کے پیروکاروں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

They wanted them to renounce their cause and take to idol-worshipping.

وہ (کافر) چاہتے تھے کہ وہ (آپﷺ اور ان کے پیروکار) اپنے مقصد کو ترک کردیں اور بتوں کی پوجا شروع کر دیں۔

On one occasion, they sent a delegation to Rasool’s (SAW) kind and caring uncle, Abu Talib  (RA).

ایک موقع پر انہوں نے رسول ﷺ کے مہربان اور شفیق چچا حضرت ابو طالب کے پاس ایک دفد بھیجا۔

They told him to restrain the Rasool (SAW) from preaching Allah Almighty’s message, or face their enmity.

انہوں نے اسے (حضرت ابو طالب) کو کہا کہ وہ رسول ﷺ کو اللہ تعالٰی کا پیغام پھیلانے سے روک لیں یا پھر ان کی دشمنی کا سامنا کریں۔

Finding himself in a dilemma, he sent for his nephew, and explained to him the situation.

اپنے آپ کو کشمکش میں پا کر انہوں نے اپنے بھتیجےکو بلایا اور ساری صورتحال کی وضاحت کر دی۔

The Rasool (SAW) responded with these memorable words:

“My dear uncle, if they put the sun in my right hand and the moon in my left, even then I shall not abandon the proclamation of the Oneness of Allah (Tauheed). I shall set up the true faith upon the earth or perish in the attempt.”

رسول ﷺ نے ان یادگار لفظوں میں جواب دیا:

“میرے پیارے چچا جان اگروہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں پھر بھی میں اللہ تعالٰی کی توحید کی تعلیم سے باز نہیں آؤں گا۔ میں زمین پر صحیح عقیدہ قائم کردوں گا یا پھر اسی کوشش میں اپنی جان قربان کردوں گا۔”

  1. The Rasool’s (SAW) uncle was so impressed with his nephew’s firm determination that he replied:

“Son of my brother, go thy way, none will dare touch thee. I shall never forsake thee.

رسول ﷺ کے چچا اپنے بھتیجے کے پختہ عزم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے جواب دیا:

“اے میرے بھتیجے، آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ کوئی بھی تمہیں چھونے کی جرات نہیں کرے گا۔ میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔

  1. And the Rasool (SAW) did go the way Allah Almighty had chosen for mankind.

اور رسولﷺ اسی راستے پر چلتے رہے جو اللہ تعالٰی نے انسانیت کے لیے منتخب کیا تھا۔

Imbued with Divine Guidance and firm resolve, the Rasool (SAW) encountered all the challenges with grace and dignity.

الہامی رہنمائی اور پختہ عزم سے سرشار، رسولﷺ نے تمام مشکلات کا مقابلہ وقار اور عظمت کے ساتھ کیا۔

In no time, he elevated man to the highest possible level in both spiritual and worldly domains.

بہت تھوڑے وقت میں آپﷺ نے انسان کو روحانی اور دنیاوی دائرہ کار دونوں میں بلند ترین ممکنہ مقام تک پہنچا دیا۔

He was also a driving force behind Arab conquests, which have created an everlasting impression on human history.

آپﷺ نے عرب فتوحات میں بھی ایک محرک قوت کا کردار ادا کیا جنہوں نے انسانی تاریخ پر ایک دائمی نقش ثبت کیا ہے۔

No wonder, he is universally acknowledged as the most influential figure in history.

بلاشبہ آپ کو دنیا میں تاریخ کی سب سے موثر ثخصیت تسلیم کیا جاتا ہے۔

In the words of Michael Hart, a great historian:

“Muhammad (SAW), however, was responsible for both the theology of Islam and its main ethical and moral principles. In addition, he played a key role in proselytizing the new faith, and in establishing the religious practices…

In fact, as the driving force behind the Arab conquests, he may well rank as the most influential political leader of all time…

The Arab conquests of the seventh century have continued to play an important role in human history, down to the present day.”

ایک عظیم تاریخ دان مائیکل ہارٹ کے مطابق:

“بحرحال محمدﷺ اسلام کے مذہبی علوم (مذہبی عقائد) اور اس کے مرکزی دستوری اور اخلاقی اصول دونوں کے ذمہ دار تھے۔ اس کے علاوہ آپﷺ نے نئے عقیدے کی تبلیغ اور اس کے مذہبی اعمال کو قائم کرنے میں اہم کردار کیا۔

بلاشبہ عرب فتوحات میں بطور ایک محرک قوت کے کام کرنے کی وجہ سے آپﷺ کو تمام ادوار میں سب سے با اثر سیاسی رہنما کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

ساتویں صدی کی عرب فتوحات آج تک انسانی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کرتی آرہی ہیں۔

  1. Such a thorough transformation of man and society owes to the Rasool’s (SAW) deep faith in Allah Almighty, to his love for humanity, and to the nobility of his character. In fact, his life is a perfect model to follow. In reply to a question about the life of the Rasool (SAW), Hazrat Ayesh (RA) said:

“His morals and character are an embodiment of the Holy Quran.”

انسان اور معاشرے کی اس قدر مکمل تبدیلی رسولﷺ کے اللہ تعالٰی پر پختہ ایمان، آپﷺ کی انسانیت کے لیے محبت اور آپ کے عظیم کردار کی مرہونِ منت ہے۔ در حقیقت آپﷺ کی زندگی پیروی کرنے کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ رسولﷺ کی زندگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

“آپﷺ کا کردار اور اخلاق قرآن میجید کا عملی نمونہ ہے۔”

The final word about the savior of mankind goes to the Holy Quran:

“O Nabi! Surely, We have sent you as a witness, and as a bearer of good news and as a warner. And as one inviting to Allah by His permission, and as a light-giving torch. (Quran, 33:45-46)

انسانیت کے نجات دہندہ سے متعلق آخری بات قرآن مجید سے لی گئی ہے جو کچھ اس طرح ہے:

“اے نبی! یقیناً ہم نے آپ کو ایک گواہ، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا ہے۔ اور آپ کو اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کے بھیجا ہے۔”

About the Author:

The writer of 9th class English notes and 10th class English notes (Muhammad Ishaq) is an M. Phil Scholar and Secondary School Educator at New Millat High School, Mumtazabad, Multan. He has earned many distinctions as a student, teacher, English language instructor, debater, prolific content writer, and academic and linguistic researcher. He makes use of his years long experience in various domains to produce something creative and comprehensive.

2 Comments

  1. It is very use full for the students

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *